بھٹکل:22؍ مارچ (ایس اؤ نیوز) بھٹکل ہوناور ودھان سبھا حلقہ میں امیدواروں کےناموں کا اعلان ہونےسے پہلے ہی انتخابی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ اور تازہ خبر یہ موصول ہوئی ہے کہ بھٹکل ودھان سبھاحلقہ سے ہائی کورٹ کے وکیل ناگیندرا رام چندر نائک بھی انتخابی اکھاڑے میں اتر رہے ہیں۔ ماناجارہا ہے کہ عنایت اللہ شاہ بندری اگر انتخابی میدان سے پیچھے ہٹتے ہیں تو جے ڈی ایس امیدوار کےطورپر ناگیندرا نائک کو ٹکٹ ملنا تقریبا طے ہے۔
یاد رہے کہ پیر کومجلس اصلاح وتنظیم کی میٹنگ میں مسلم امیدوار کو انتخابی میدان میں نہ اتارنےکا فیصلہ لینے کی بات منظر عام پر آئی تھی پتہ چلا ہے کہ اس کے اگلے ہی روز یعنی منگل کو ہائی کورٹ کے معروف وکیل ناگیندرا نائک نےجے ڈی ایس کے ریاستی صدر کمار سوامی سےملاقات کی اور جے ڈی ایس کی ٹکٹ پر بھٹکل اسمبلی حلقہ سے میدان میں اترنے کی خواہش ظاہر کی، جے ڈی ایس کے ایک ذرائع نے بتایاکہ کمارا سوامی نے انہیں کہا کہ اگر عنایت اللہ شاہ بندری پیچھے ہٹتے ہیں تو پھر ان کو (ناگیندرا نائک کو) ٹکٹ دی جائے گی۔
ساحل آن لائن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ ناگیندرا نائک نے بتایا کہ کمارا سوامی نے بھٹکل اسمبلی حلقہ سے انہیں ٹکٹ دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ناگیندرا نائک نے بتایا کہ اگر بھٹکل تنظیم ان کا ساتھ دیتی ہے تو مسلمانوں کے تعاون سے ان کی جیت یقینی ہے۔
پتہ چلا ہے کہ اگلے دو تین دن میں ناگیندرا نائک بھٹکل پہنچ کر اپنی انتخابی تشہیری مہم شروع کریں گے۔
یاد رہے کہ ہائی کورٹ کےوکیل ناگیندرا نائک کا نام سپریم کورٹ کی کولجیم نے ہائی کورٹ جج کے طور پر نامزد کرنے چار مرتبہ سفارش کی تھی مگر مرکزی حکومت نےاس کو منظوری نہیں دی۔ معاملہ چونکہ اب سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے، ناگیندرا نائک نے آنے والے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
سہ رخی مقابلہ : اگر جے ڈی ایس کی طرف سے ناگیندرا نائک میدان میں اترتےہیں تو پھر بھٹکل حلقہ میں اس مرتبہ سہ رخی مقابلہ ہونےکےواضح آثار نظر آرہےہیں۔ کانگریس سےسابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا اور بی جےپی سےحالیہ رکن اسمبلی سنیل نائک کا انتخابی میدان میں اترنا تقریبا طئےماناجارہاہے۔ خیال رہے کہ ناگیندرا نائک اور سنیل نائک دونوں نامدھاری طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ منکال وئیدیا موگیر کمیونٹی سے ہیں۔ سمجھا جارہا ہے کہ اگلے دو تین دنوں میں بھٹکل کی سیاست نیا موڑ لے سکتی ہے۔